پاکستان کے لیے پہلا گولڈ میڈل جیتنے والا پہلوان گمنامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیوں؟
پاکستان کے لیے پہلا گولڈ میڈل جیتنے والا پہلوان گمنامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیوں؟
لاہور شہر کے نواحی علاقے باٹا پور کے گاؤں اتوکے اعوان کے رہائشی 95 سالہ دین محمد وضع قطع میں تو آپ کو پنجاب کے ایک عام دیہاتی کی طرح ہی دکھائی دیتے ہیں لیکن وہ کوئی عام شخص نہیں۔

دین محمد پاکستان کے وہ کھلاڑی ہیں جنھیں سب سے پہلے کسی بین الاقوامی مقابلے میں ملک کے لیے طلائی تمغہ جیتنے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔
دین محمد اب دنیا کی نظروں سے دور گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان سپورٹس بورڈ کی جانب سے انھیں پانچ ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا تھا لیکن وہ بھی چند ماہ ہی جاری رہ سکا اور آج وہ ارباب اختیار کی بےحسی کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔
جب پہلی مرتبہ پاکستانی پرچم عالمی مقابلے میں لہرایا
دین محمد نے پاکستان کے لیے طلائی تمغہ 1954 میں منیلا میں ہونے والے دوسرے ایشین گیمز میں کُشتی کے مقابلے میں جیتا تھا۔

پاکستان پہلی بار ان کھیلوں میں شریک ہوا تھا اور اس نے مجموعی طور پر پانچ طلائی تمغے جیتے تھے۔ ان میں سے چار تمغے عبدالخالق، مرزا خان، شریف بٹ اور محمد نواز نے چار سے سات مئی تک ہونے والے ایتھلیٹکس مقابلوں میں جیتے لیکن پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ تین مئی کو دین محمد نے رقم کی تھی۔
Comments
Post a Comment